حوزه نیوز ایجنسی: آج 7 اکتوبر تاریخی آپریشن طوفان الاقصیٰ کا تیسرا سال ہے۔ عبرانی ذرائع میں موجوددستاویزات کے مطابق، صہیونی حکومت نے طوفان الاقصیٰ آپریشن سے 6 روز قبل ہی غزہ پر وسیع حملے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا۔ صہیونی حکومت کے چینل 12 نے اسی عرصے میں اعلان کیا تھا کہ اسے اہم دستاویزات ملی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2023ء میں طوفان الاقصیٰ کے آغاز سے چھ روز قبل اس حکومت کے انٹیلی جنس مراکز نے غزہ پر وسیع حملے اور اس کی قیادت کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا۔
صہیونی حکومت کے چینل 12 نے انکشاف کیا کہ شاباک کے اُس وقت کے سربراہ رونین بار نے یکم اکتوبر 2023ء، یعنی طوفان الاقصیٰ سے چھ روز قبل، حماس کے اعلیٰ کمانڈروں، جن میں شہید یحییٰ السنوار اور قسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف محمد الضیف بھی شامل تھے، کو قتل کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا اور قابض فوج کے چیف آف اسٹاف ہرتزی ہالیوی کو بھی اس منصوبے پر عمل درآمد کی سفارش کی تھی۔
اس تحقیق کے مطابق، صہیونی حکومت کے سکیورٹی اداروں کے کمانڈروں اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس میں شاباک کے سربراہ نے کہا کہ ’’السنوار‘‘ خود کو زیادہ آزادیِ عمل محسوس کررہا ہے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔ ہالیوی نے جواب دیا: ’’حماس کے خلاف ایک وسیع آپریشن کرنا اور پیشگی حملہ کرنا ضروری ہے۔‘‘
اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے 7 اکتوبر 2023ء سے چند روز قبل فلسطین کے مسئلے کو ’’ختم شدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ابراہام معاہدوں کی جانب اشارہ کیا تھا اور ’’نئے مشرقِ وسطیٰ کے ڈھانچے‘‘ کی خبر دی تھی۔
ایسے حالات میں طوفان الاقصیٰ وقوع پذیر ہوا اور تمام علاقائی و سیاسی مساوات تبدیل ہوگئیں۔
’’اسرائیل کے ساتھ عرب امن‘‘ کی پالیسی اور مزاحمت کو ایک جائز اختیار کے طور پر ترک کرنے کے لیے عالمی دباؤ کئی دہائیوں سے جاری تھا۔ اسی دوران اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ میں اشتعال انگیز اقدامات میں بھی اضافہ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق مسجد الاقصیٰ کے احاطے پر صہیونیوں کے دھاووں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ فلسطینی مزاحمت اور اس کے سماجی ڈھانچے کو بھی سنگین چیلنجز کا سامنا رہا، اور بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ اگر کوئی فیصلہ کن اقدام نہ کیا گیا تو فلسطینی سیاسی اور علامتی اعتبار سے حاشیے پر چلے جائیں گے۔
ان مفروضات کی بنیاد پر اگر مزاحمت کی جانب سے کوئی بڑا اور علامتی اقدام نہ کیا جاتا تو ممکن تھا کہ فلسطین کا مسئلہ بتدریج عالمی رائے عامہ کے ذہنوں سے محو ہوجاتا۔
تاہم ناقدین یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا طوفان الاقصیٰ کی انسانی اور مادی قیمت اس کے حاصل کردہ نتائج سے زیادہ نہیں تھی؟ کیا بہتر نہ ہوتا کہ مزاحمت بتدریج جاری رہتی اور توجہ سفارت کاری، میڈیا اور عالمی دباؤ پر مرکوز رکھی جاتی؟
کیا کسی بڑے تصادم کے بغیر مزاحمت کی طاقت میں اضافہ ممکن تھا؟ کیا بعض پیش گوئیاں، جن میں غزہ کے عوام کی بے دخلی، ایک متحدہ صہیونی سرزمین اور اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات کا معمول پر آنا شامل تھا، واقعی ممکن تھیں؟
طوفان الاقصیٰ کے اسرائیلی معیشت پر شدید وار
مقبوضہ فلسطین سے صہیونیوں کا انخلا اور الٹی ہجرت کا بحران
فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کا مذموم منصوبہ
اور فلسطین عالمی خبروں اور افکارِ عامہ میں سرفہرست
مختلف عالمی حلقوں میں اسرائیل کی تنہائی اور ساکھ کا بحران
نقصانات بمقابلہ کامیابیاں
ہر جائزے میں نقصانات اور خطرات کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کے مقابلے میں پرکھنا ضروری ہے۔
طوفان الاقصیٰ کے نقصانات اور خطرات میں شامل ہیں:
غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر انسانی جانی نقصان اور تباہی؛
مزاحمت کو پہنچنے والے جانی اور مالی نقصانات؛
صہیونی حکومت کی جانب سے مزید بمباری اور محاصرے میں اضافہ۔
اس کے مقابلے میں طوفان الاقصیٰ کے نتائج اور فوائد میں شامل ہیں:
فلسطین کے مسئلے کو ایک زندہ اور عالمی مسئلے کے طور پر برقرار رکھنا؛
صہیونی حکومت کی ناقابلِ شکست طاقت کے افسانے کو توڑنا اور اس کے زوال کو نمایاں کرنا؛
صہیونی حکومت پر اقتصادی دباؤ؛
اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ اور جواز میں کمی؛
دنیا بھر میں جامعات، طلبہ، دانشوروں اور معروف شخصیات کا متحرک ہونا؛
عالمی سطح پر عوامی یکجہتی اور احتجاج میں اضافہ؛
فلسطینیوں کی بے دخلی اور ان کے خاتمے کے منصوبوں پر آسانی سے عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کرنا۔
نقصانات اور کامیابیوں کا موازنہ کرنے سے بظاہر یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ نقصانات انتہائی بھاری ہیں، تاہم فلسطین کو عالمی منظرنامے سے حذف کیے جانے کے بڑے خطرے کے مقابلے میں انہیں قابلِ قبول سمجھا جاسکتا ہے۔
اس طرح اس تجزیے کے مطابق، طوفان الاقصیٰ نہ صرف کوئی تزویراتی غلطی نہیں تھا بلکہ فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھنے، مزاحمت کو علاقائی اور عالمی مساوات میں ایک مؤثر قوت کے طور پر دوبارہ سامنے لانے، دنیا کے مختلف حصوں میں صہیونی حکومت کی بڑھتی ہوئی تنہائی اور پابندیوں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر بڑھتے ہوئے بحران کو جنم دینے کے لیے ایک مؤثر اور ضروری اقدام تھا۔
حرف آخر جیسے کے صہیونی چینل 12 نے اپنی رپورٹ میں بتایا کے صہیونی 6 دن پہلے غزہ پر حملے اور قتل عام کے لیے مکمل تیار تھے عوامی قتل عام تو اس صورت میں بھی ہونا تھا لیکن طوفان الاقصی کی برکت سے فلسطین اور فلسطینوں کی مظلومیت کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ایک بار پھر عالمی نظروں میں آئی اس سے پہلے دیر یاسین اور دسیوں دوسرے گاؤں میں ہزاروں افراد کو زندہ جلایا گیا لیکن کسی نے کوئی مزمت نہیں کی لیکن اس دفعہ پوری دنیا نے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کی یقینا یہ شہدا کے پاکیزہ خون کا اثر ہے۔










آپ کا تبصرہ